اللہ کی رحمت بہانہ ڈھونڈتی ہے

اللہ کی رحمت

اللہ رب العزت کی صفاتِ عالیہ میں ایک بہت نمایاں صفت اللہ کی شانِ رحمت ہے، اسمائے حسنیٰ میں ’’الرحمٰن‘‘ اور ’’الرحیم‘‘ دونوں اسی صفت کے ترجمان ہیں، اور ان میں اللہ کی رحمت کی کثرت، عموم، تسلسل اور دوام سب کی طرف اشارہ موجود ہے۔ قرآن مجید میں سیکڑوں مقامات پر اللہ نے اپنی صفتِ رحمت کا ذکر کیا ہے اور حوالہ دیا ہے،

تمام قرآنی سورتوں کے آغاز میں جو آیت تلاوت کی جاتی ہے اور تمام اہم کاموں کا آغاز جس بول سے کیے جانے کا حکم ہے وہ ’’ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘ ہے، جس میں اللہ کے ’’ رحمٰن‘‘ (سب پر مہربان) اور ’’رحیم‘‘ (بہت مہربان) ہونے کی صراحت ہے، قرآن میں مستقل ایک سورت ’’سورۃ الرحمٰن‘‘ کے نام سے موسوم ہے، جسے قرآن کی زینت قرار دیا گیا ہے، اس کا آغاز بھی صفتِ ’’رحمٰن‘‘ کے ذکر سے ہوا ہے، اور پوری سورت میں ابتدا سے انتہا تک اسی صفت کے ثمرات اور نمونوں کا بیان ہے، اس کے علاوہ بہت سے مقامات پر گنہ گاروں،

گناہوں اور جہنم کی سزاؤں کے ذکر کے بعد اللہ نے اپنے ’’ غفور‘‘ اور ’’رحیم‘‘ ہونے کی صراحت فرمائی ہے، اور کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف رحمت کی نسبت کی ہے اور کئی جگہ اپنی رحمت کی وسعت کو بیان فرمایا ہے:
’’کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ۔‘‘ (الانعام:۵۴)
’’تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کا معاملہ لازم کرلیا ہے۔‘‘
’’رَبُّکُمْ ذُو رَحْمَۃٍ وَاسِعَۃٍ۔‘‘ (الانعام:۱۴۷)

’’تمہارا رب بڑی وسیع رحمت کا مالک ہے۔‘‘
’’وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ۔‘‘(الاعراف:۱۵۶)
’’میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے۔‘‘
’’وَرَبُّکَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَۃِ۔‘‘(الکہف:۵۸)
’’تمہارا رب بہت بخشنے والا بڑی رحمت والا ہے۔‘‘
فرشتوں کا یہ قول بھی قرآن میں نقل ہوا ہے:
’’رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْئٍ رَّحْمَۃً وَعِلْمًا۔ ‘‘ (الغافر:۷

’’اے ہمارے رب! آپ کی رحمت اور علم ہرچیز پر بھاری ہے۔‘‘
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں اللہ کی شانِ رحمت کا تذکرہ مختلف پیرایوں میں بڑی کثرت سے ملتا ہے، ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ نے لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے:
’’إِنَّ رَحْمَتِیْ تَغْلِبُ غَضَبِیْ۔ ‘‘ (مسلم: التوبۃ:باب فی سعۃ رحمۃ اللہ:۶۹۶۹)
’’میری رحمت میرے غضب پر غالب رہتی ہے۔‘‘
’’سَبَقَتْ رَحْمَتِیْ غَضَبِیْ۔ ‘‘ (ایضاً:۶۹۷۰)

’’میری رحمت میرے غضب پر مقدم رہتی ہے۔‘‘
مختلف احادیث میں یہ صراحت ملتی ہے کہ اللہ نے اپنی رحمت کے سو حصے فرمائے، اس میں ۹۹؍ حصے اپنے پاس عالمِ آخرت کے لیے روک لیے، اورایک حصہ دنیا میں بھیج دیا، انسانوں، جنوں، حیوانات میں باہم جو محبت، تعلق اور اُنس پایا جاتا ہے وہ اسی ایک حصۂ رحمت کا اثر ہے۔ (ایضاً:۶۹۷۲ و۶۹۷۴)
اللہ کی اسی شانِ رحمت کا مظہر ہے کہ اس نے اپنے احکام سے بغاوت کرنے والوں اور گناہوں میں مبتلا افراد کو توبہ و استغفار اور اپنی طرف رجوع کا حکم دیتے ہوئے ان کو ناامیدی سے نکالا ہے اور اپنی رحمت کی امیدوں کی ڈور انہیں تھمادی ہے، چنانچہ فرمایا:

’’یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ أَسْرَفُوْا عَلَی أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِن رَّحْمَۃِ اللہِ إِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا إِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ، وَأَنِیْبُوْا إِلٰی رَبِّکُمْ۔ ‘‘ (الزمر: ۵۳-۵۴)
’’اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے: اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقین جانو اللہ سارے گناہوں کو معاف کردیتا ہے، یقیناً وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے، بس تم اپنے رب سے لو لگالو۔‘‘
’’لاَ تَیْأَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللہِ۔‘‘ (یوسف:۸۷)

’’تم اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہوجاؤ۔‘‘
واقعہ یہ ہے کہ اللہ کی رحمت بہانہ ڈھونڈتی ہے، اور بسا اوقات بندوں کی بہت چھوٹی نیکیاں بلکہ دل سے احساسِ ندامت، آنکھوں کے چند قطرے، اور معافی کے بول اللہ کی رحمت کو جوش دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، اور انہیں پر بے سان و گمان اللہ کی طرف سے تما م گناہوں کی مغفرت اور جنت و رحمت کا فیصلہ ہوجاتا ہے، احادیث میں جگہ جگہ ذکر آیا ہے کہ ایک بدکار عورت کو صرف پیاسے کتے کو پانی پلانے کے عمل پر اللہ کی طرف سے مغفرت عطا فرمادی گئی، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت دی ہے:

اپنی رائے کا اظہار کریں