حمل کے دوران یہ کام بالکل نہیں کر نے چاہییں ان کاموں سے پرہیز کرنا ہے

آج نیوز ! اکثر خواتین اور لڑ کیاں یہ سوال پوچھتی ہیں کہ حمل کے دوران کن چیزوں کا پر ہیز کر نا چاہیے کیسی غذا استعمال کرنی چاہیے تو آج میں آپ کو حمل کے دوران احتیاطی تدابیر کے بارے میں بتاؤں گی۔ حمل کے دوران سبزیاں فروٹ پہلے مہینے میں زیادہ لیں مگر بہت اچھی دھو کر چا ئے کافی مر چیں پان بالکل ہی ممنون کر دیں۔ کیو نکہ اکثر خواتین میٹھا پان بہت شوق سے کھا تی ہیں۔ اس لیے میں نے یہاں پر میٹھے پان کا ذکر کیا ہے۔

زیادہ وزن اٹھانے سےپرہیز کر یں اور جھک کر کام کر نا بند کر دیں بہت زور کسی صورت نہ لگا ئیں۔ صبح صبح ایک سیب کھانے کی عادت ڈالیں نماز کی پابند ی رکھیں۔ سبز سبزیاں کھانے میں بڑ ھا دیں کیو نکہ ان میں آئرن کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جو کہ حاملہ خاتون کو زیادہ چاہیے ہوتی ہے۔ ٹھو کر لگنے سے بچنے کے لیے اندھیرے میں چلنے پھر نے سے احتیاط کریں۔ ہر جمعرات کو سورۃ ملک اور درود شریف پڑ ھ کر اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیر دیں۔ کیفین کا استعمال پہلے پانچ مہینے بالکل نہ کر یں۔ کو لا چائے کافی سب کیفین میں شامل ہیں۔ پاؤں سوجھ جانے کی صورت میں پاؤ ں کے نیچے تکیہ ر کھ کر بیٹھیں اور لیٹیں۔ اگر سینے میں جلن محسوس ہو تو آدھا کپ ٹھنڈا دودھ چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے کر پی لیں۔

تر بوز کا موسم ہو تو دن میں ایک مرتبہ ضرور کھا ئیں۔ زیاہ پیشاب آ نے کی صورت میں پانی بھی زیادہ پئیں۔ چہل قدمی ضروری ہے۔ روزانہ بیس سے تیس منٹ کی چہل قدمی ضرور کر یں۔ تیز مصالحہ کھانے میں استعمال مت کر یں۔ تو یہ تھیں آج کی کچھ احتیاطی تدابیر۔ امید کرتی ہوں کہ میری ان بتائی ہوئیں احتیاطی تدابیر کو آپ پسند کر یں گے اور ان پر عمل کر کر اپنی اس حمل کی تکلیف کو کم کرنے میں میرا ساتھ دیں گی۔ دیکھیے اولاد اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اور اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کسی کسی کو یہ نعمت عطا کرتے ہیں مگر جن کے پاس نہیں ہےان سے اس کی قدر جانیے۔ تو اولاد کی بہترین نشوونما

حمل کے دوران کرنے کے لیے میری ان بتائی ہوئی باتوں پر عمل ضرور کیجئے گا۔ تا کہ میری باتوں سے آپ کو فائد ہو سکے اور بچے کی دوران حمل نشوو نما بھی بہترین قسم سے ہو سکے اور آپ بھی کسی بھی قسم کے حادثے سے خدانخواستہ ضرور بچ سکیں۔ کیو نکہ ایک معمولی سی چوٹ بھی بچے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔ تو ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھ کر بہت سے فوائد ا ور بہت سے نقصانات ہونے سے بچا جا سکتا ہے اور بچے کی نشو و نما بھی اچھے طریقے سے کی جا سکتی ہے۔ مختلف قسم کی بیماریوں اور مشکلات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں